Choose a track to play
"کیوں؟ کہاں؟"
"یہ کیسا فیصلہ ہے؟"
میں تجھ سے دُور رہا
یہ میلوں فاصلہ ہے
اور اب میں ہوں کہاں؟
کہ تم سا کوئی اب ملتا نہیں
اور تم سا جو، جو کھلتا صحیح
پر ہم کیا کریں؟
تو پیار یا خیال ہے میرا
تو پہلا ملال ہے میرا
میں جادوگر ہوں قلم کے ساتھ
تو پہلا کمال ہے میرا
اب مجھے تیری یاد آئے بہت
میں کروں تجھے ایک text اور
But you don't give a fuck about me
بتا دے جانا گھر کب آئے گی
پہنچ جائیں گے پیغام کی طرح
ڈھل جائیں کسی شام کی طرح
تو ڈھونڈتی پھرے ہمیں شہر بھر میں
اپنے قیمتی سامان کی طرح
ہم تیرے میزبان نہ سہی
شبِ غم کوئی آسان نہ رہی
میں سیکھ کر بیٹھا ہوں دل بہلانے کا ہُنَر
تیرے آنے کے آثار نہ کہیں
تو جو مسکرا دے، میرے ہر زخم کو مرہم دستیاب ہو
تو جو گنگنا دے، کوئلوں کی دھن سا لگے اظہار ہو
تو جو گلے لگا لے، جیسے ہر کلی کی مہک بیکار ہو
تم کیا ہو تم خود نہیں جانتی
یہ سب میرے ساتھ ہر بار ہو
"کیوں؟ کہاں؟"
"یہ کیسا فیصلہ ہے؟"
میں تجھ سے دور رہا
یہ میلوں فاصلہ ہے
اور اب میں ہوں کہاں؟
کہ تم سا کوئی اب ملتا نہیں
اور تم سا جو، جو کھلتا صحیح
پر ہم کیا کریں؟
تم سے ملے تو ٹھیک نہ ملے
تو دل یہ خنجرُوں سے چاک ہو گیا
اور سر پہ بوجھ پریشانیوں کا، But I'm clocked in
Studio میں لگا رہتا لڑکا رات دن
Bottom of the bottom JANI, you know I've been
Now I am at the top، جیسے میں کوئی حاکم
سنگتوں نے رنگ بدلے، They've been talking
نہ آئے معتبر، نہ آئی موت بھی
جانم میری زندگی یہ غزل بن گئی
تُو انصاف نہ کرے، تُو عدل بن گئی
تجھ سے لاکھوں میل جیسے تو ہو چاند
تیری روشنی اب کششِ ثقل سی بن گئی
نہ ٹوٹنے سے ٹوٹے، وہ قسم سی بن گئی
میں لکھوں شاعری، تُو ادب سی بن گئی
جو چھوڑ دی ادھوری، وہ نظم سی بن گئی
میں یاد کروں تجھ کو، تو سبق سی بن گئی
پھر امید کیوں جگاتی ہو
تم کہاں ہو، کیا سیاہی میں سماتی ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں، میں پتہ ہے نا
تو میری جان تم بھی وقت پر کیوں آتی ہو
ہم خود سے بھاگے ہیں یا بے خبر
نہ موت آتی ہے نہ ہی صبر
تو ہی نہ ملا مجھے اگر
تو میں فاصلے بڑھاؤں تم سے بس
تو کھینچے اپنی اور
نہ چلتا خود پہ زور
تو ڈالے ایسی ڈور
I'm hoping, you don't let it go, let it go
چھوڑو یہ بہانے، یہ کہانیاں
بڑھاؤ نہ ہونا تم دل کی پریشانیاں
ہم پہلے عاشق تو نہیں ہیں جانِ من
یہ عشق کھا گیا بڑی جوانیاں
میں اس فرض سے جڑ کے بہت خوش
کیا کریں تیری ہوائیں ہیں سواریاں
ہم کھو گئے ہیں خود میں، مل کے نہیں دے رہے
اب کیا عید کیا دیوالیاں (ہمم)
بس ایک جھلک جو دِکھ جائے مجھے تیری
تو شروع کریں ہم عید کی تیاریاں
میں اس فرض سے جڑ کے بہت خوش
بادلوں سے ہے لگائی تُو نے یاریاں
تیرے سامان سے بھری میری الماریاں
مت کرو تم اور مزید مہربانیاں
میں بس دل کی بات کہنے والا تھا تمہیں
پھر کسی نے مجھ کو نیند سے جگادیا
ماہر ہو گیا ہوں، میں بھی اب تڑپنے میں
تو کیوں ڈریں گے، ہم بھی دل کو رکھنے میں
بدل گئے ہو، تم بھی اب پتہ نہیں
تم ایسے تو نہیں تھے، میرے سپنے میں
"کیوں؟ کہاں؟"
"یہ کیسا فیصلہ ہے؟"
میں تجھ سے دور رہا
یہ میلوں فاصلہ ہے
اور اب میں ہوں کہاں؟
کہ تم سا کوئی اب ملتا نہیں
اور تم سا جو جو کھلتا صحیح
پر ہم کیا کریں؟