Elige una pista para reproducir
تیرے بزم میں آنے سے، اے ساقی
چمکے مَے کدہ، جامِ شراب چمکے
ذرہ ذرہ نظر آئے مہ پارہ
گوشہ گوشہ مثلِ آفتاب چمکے
میری جان، یہ شان، سبحان اللہ
تیرا حسن یوں زیرِ نقاب چمکے
جیسے شمع قندیل میں ہو روشن
جیسے بادلوں میں ماہتاب چمکے
مَے خوار ہیں سارے اداس بیٹھے
سونی پڑی ہے تیرے بغیر محفل
تُو جو آئے تو ساغر و جام چھلکے
تُو پلائے تو رنگِ شراب چمکے
لائے تاب اِتنی چشمِ شوق کیوں کر
دیکھے کون اُس کے بے نقاب جلوے
جس کے روحِ درخشاں پہ، اے صوفی
بڑھ کے زلف سے کہیں نقاب چمکے