Elige una pista para reproducir
فریاد وہی آج میرے دل میں جو
تم ہو پاس میرے ساتھ
جنہیں یہ کہتے ہو
وہی نا سنیں تو
لبوں پے ترستے میرے خواب
ایسی ہی راہوں کو
بھول جانے دو
پھرتے رہے ہم کیوں ساتھ
بات سے بات نکلی وہ پاس رہی
مجھ سے جب طلب وہ آزاد ہوئی
آس کئی پُل کیوں بناتے ہو
بجھتے ہوئے دن جگاتے ہو
سہتے ہیں دل پہ تو تیرے ہیں
وہی سے تو درد سمیٹے ہیں
ایسے بَدَل تم کیوں جاتے ہو
ایسے بَدَل تم کیوں جاتے ہو
جنہیں یہ کہتے ہو
وہی نا سنیں تو
لبوں پے ترستے میرے خواب
ایسی ہی راہوں کو
ایسی ہی راہوں کو
بھول جانے دو
پھرتے رہے ہم کیوں ساتھ
ایسی ہی راہوں کو
بھول جانے دو
پھرتے رہے ہم کیوں ساتھ
ایسی ہی راہوں کو
بھول جانے دو
پھرتے رہے ہم کیوں ساتھ
ایسی ہی راہوں کو
بھول جانے دو
پھرتے رہے ہم کیوں ساتھ
ایسی ہی راہوں کو
بھول جانے دو