Elige una pista para reproducir
یے الگ بات ھے کے ساقی کے مجھے حوش نہیں
ورنا میں کچھ بھی ھوں احسان فراموش نہیں
میں تیری مست نگاھی کا بھرم رکھ لوں گا
حوش آیا بھی تو کہہ دوں گا مگر حوش نہیں مجھے حوش نہیں
ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے
مطرب رباب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے
ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے
مطرب رباب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے
ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے
چبھتی ہے قلب و جاں میں ستاروں کی روشنی
اے چاند ڈوب جا کہ طبیعت اداس ہے
ہے حسن کا فسوں بھی علاج فسردگی
رُخ سے نقاب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے
ہے حسن کا فسوں بھی علاج فسردگی
رُخ سے نقاب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے
شاید ترے لبوں کی چٹک سے ہو جی بحال
اے دوست مسکرا کہ طبیعت اداس ہے
میں نے کبھی یہ ضد تو نہیں کی پر آج شب
اے مہ جبیں نہ جا کہ طبیعت اداس ہے
میں نے کبھی یہ ضد تو نہیں کی پر آج شب
اے مہ جبیں نہ جا کہ طبیعت اداس ہے
توبہ تو کر چکا ہوں مگر پھر بھی اے عدم
تھوڑا سا زہر لا کہ طبیعت اداس ہے
مطرب رباب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے
ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے