Elige una pista para reproducir
تم نے بھی سنی
یہاں کہی گئی کیسی کیسی باتیں
تم نے بھی سنے
یہاں کیے گئے کیسے کیسے وعدے
جھوٹی تھی سبھی
یہاں کہی گئی خوشیوں کی جو باتیں
جھوٹے تے سبھی
یہاں کیے گئے لوگوں سے جو وعدے
دھرتی کے خدا بنتے ہیں یہاں
ان کو بھی ذرا کوئی دے سزا
مہروں کی طرح
کبھی چلا رہے ہوتے ہیں وہ ہم کو
پانی کی طرح
کبھی بہا رہے ہوتے ہیں وہ ہم کو
شمعوں کی طرح
جلا رہے ہوتے ہیں وہ ہم کو
لمحوں کی طرح
کبھی گنوا رہے ہوتے ہیں وہ ہم کو
دھرتی کے خدا بنتے ہیں یہاں
ان کو بھی ذرا کوئی دے سزا
وہ ستم گر ہیں انہیں کیا جیئیں یا مریں
ہو ستم جو بھی اسے ہم گوارا کریں
وہ یہی چاہیں کہ دم ہم انہیں کا بھریں
ہم جھکیں آگے انھیں کے انہیں سے ڈریں
رہتے ہیں سبھی
یہاں کبھی نہیں جانیں گے وہ جیسے
کرتے ہیں جفا
کوئی سزا نہیں پائیں گے وہ جیسے
ان سے یہ کہو
چلے گئے یہاں کیسے کیسے آ کے
دھرتی کے خدا بنتے ہیں یہاں
ان کو بھی ذرا کوئی دے سزا
دھرتی کے خدا بنتے ہیں یہاں
ان کو بھی ذرا کوئی دے سزا
دھرتی کے خدا
ان کو دو سزا
دھرتی کے خدا
ان کو دو سزا
دھرتی کے خدا
کرتے ہیں جفا
دھرتی کے خدا
ان کو دو سزا
دھرتی کے خدا