Выберите трек для воспроизведения
تیرا آستاں تو نہ مل سکا
تیرا آستاں تو نہ مل سکا
تیری راہ گُزَر کی زمین صحیح
تیرا آستاں تو نہ مل سکا
تیری راہ گُزَر کی زمین صحیح
تیرا آستاں تو نہ مل سکا
تیری راہ گُزَر کی زمین صحیح
ہمیں سجدہ، ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے
ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے
جو وہاں نہیں تو یَہیں صحیح
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
میری زندگی تو فراق ہے
وہ ازل سے دل میں مَکین صحیح
میری زندگی تو فراق ہے
وہ ازل سے دل میں مَکین صحیح
وہ نگاہِ، وہ نگاہِ شوق سے دور ہیں
وہ نگاہِ شوق سے دور ہیں
رگِ جان سے لاکھ قریں صحیح
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
کبھی اے حقیقتِ منتظر
نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں
میری جبینِ نیاز میں
نہ کہیں جہاں میں اماں ملی
جو اماں ملی تو کہاں ملی
میرے جرمِ خانہ خراب کو
تیرے عفوِ بندہ نواز میں
ارے، مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے
مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے
میری آرزو کا بھرم رہے
تیری انجمن، تیری انجمن میں اگر نہیں
تیری انجمن میں اگر نہیں
تیری انجمن کے قریں صحیح
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
سَرِ طُور ہو، سرِ حشر ہو
ہمیں انتظار قبول ہے
سرِ طور ہو، سرِ حشر ہو
ہمیں انتظار قبول ہے
وہ کبھی ملیں، وہ کبھی ملیں، وہ کہیں ملیں
وہ کبھی صحیح، وہ کہیں صحیح
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
وصل و فراقِ یار کا قصہ عجیب ہے
جتنا میں اُس سے دور، وہ اُتنا قریب ہے
دیتا تو ہے صدا، وہ مجھے شش جہات سے
اب میں نہ سن سکوں تو یہ میرا نصیب ہے
لکھا ہے یہ کتابِ محبت کے باب میں (محبت کے باب میں)
مشکل اُسی قدر ہے جو جتنا حبیب ہے
کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا
ہر چیز میں عکسِ رُخِ زيبا نظر آیا
تُو کب کسی طالب کو سراپا نظر آیا
دیکھا تجھے اُتنا، جسے جتنا نظر آیا
تُو روبرو ہو کر بھی نگاہوں سے چُھپا ہے (نگاہوں سے چُھپا ہے)
تُو ہو کے عیان بھی پسِ پردہ نظر آیا
سجدہ جو کیا، ہار کے دنیا کی جفا سے
آئی صدا، آخر میرا ہی در نظر آیا
حیرت میں ہوں، کس بات کی ہے مجھ پہ عنایت؟
مجھ کم تر و بد تر میں، تجھے کیا نظر آیا؟
کیسے میں کہوں یہ کہ تو نظروں سے چُھپا ہے؟ (نظروں سے چُھپا ہے)
سب چھوڑ گئے، جب تُو ہی تنہا نظر آیا
گُزرا جو تصور میں تیری راہِ فنا سے
حیدر کہیں شبیّر و قلندر نظر آیا
تُو میرا بھی خالق ہے، محمد کا بھی خالق
کیسا یہ خطا کار کو رشتہ نظر آیا
تُو لاکھ چُھپے مجھ سے، اے خالقِ دو عالم (اے خالقِ دو عالم)
ہر ذرہ تیرا پردہ اٹھاتا نظر آیا
وہ میری نظر سے چُھپیں گے کیا
جو مَکین ہیں میرے خیال میں
وہ میری نظر سے چُھپیں گے کیا
جو مَکین ہیں میرے خیال میں
اُنہیں جب بھی چاہوں میں دیکھ لوں
اُنہیں جب بھی چاہوں میں دیکھ لوں
میں کہیں صحیح، وہ کہیں صحیح
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں
تیرا آستاں، تیرا آستاں