Оберіть трек для відтворення
وہ جلی ہے یا خفی ہے
وہ جلی ہے یا خفی ہے
کیا بیان ہو زباں سے
وہ جلی ہے یا خفی ہے
کیا بیان ہو زباں سے
کیا بیان ہو زباں سے
وہ جلی ہے یا خفی ہے
کیا بیان ہو زباں سے
کیا بیان ہو زباں سے
کیا بیان ہو زباں سے
اسے سوچنے سمجھنے
اسے سوچنے سمجھنے
کی بساط ہو کہاں سے
اسے سوچنے سمجھنے
کی بساط ہو کہاں سے
وہ جلی ہے یا خفی ہے
کیا بیان ہو زباں سے
تیری آرزو سے خالی
ہے جو دل، وہ بے سکوں ہے
ہے جو دل، وہ بے سکوں ہے
ہے جو دل، وہ بے سکوں ہے
تیری آرزو ہے جس کو
تیری آرزو ہے جس کو
اسے بھی سکوں کہاں سے
تیری آرزو ہے جس کو
اسے بھی سکوں کہاں سے
وہ جلی ہے یا خفی ہے
کیا بیان ہو زباں سے
وہی جب تیرا ہے ہمدم
یہی تیری بندگی ہے
یہی تیری بندگی ہے
یہی تیری بندگی ہے
بے نیاز رہ زمیں سے
بے نیاز رہ زمیں سے
بے غرض ہو آسماں سے
بے نیاز رہ زمیں سے
بے غرض ہو آسماں سے
وہ جلی ہے یا خفی ہے
سِرِّ نہاں ہے لیکن
آ، راز فاش کر دوں
آ، راز فاش کر دوں
آ، راز فاش کر دوں
جو نہ پا سکا ہے خود کو
جو نہ پا سکا ہے خود کو
اسے پائے گا کہاں سے
جو نہ پا سکا ہے خود کو
اسے پائے گا کہاں سے
وہ جلی ہے یا خفی ہے
وہ جلی ہے یا خفی ہے
ہر حد کے پار ہے وہ
وہ حدوں میں بھی عیاں ہے
وہ حدوں میں بھی عیاں ہے
وہ حدوں میں بھی عیاں ہے
جو سما گیا نظر میں
جو سما گیا نظر میں
وہ خدا ہوا کہاں سے
جو سما گیا نظر میں
وہ خدا ہوا کہاں سے
وہ جلی ہے یا خفی ہے
کیا بیان ہو زباں سے
وہ نہ آ سکا سمجھ میں
نہ سما سکا نظر میں
ہے پردہ نشیں لیکن
جلوہ نما ہے سب میں
وہ نہ آ سکا سمجھ میں
نہ سما سکا نظر میں
ہے پردہ نشیں لیکن
جلوہ نما ہے سب میں
ساقی کی نگاہوں میں
مرشد کی پناہوں میں
مُلا کی کتابوں میں
پردوں میں، حجابوں میں
ہر دکھ کی دوا میں بھی
ہر چپ کی صدا میں بھی
اس آب و ہوا میں بھی
اس ارض و سما میں بھی
مجذوب کی صحبت میں
عاشق کی محبت میں
ماں باپ کی صورت میں
اس مٹی کی مورت میں
موسیٰ کے عصا میں بھی
عیسیٰ کی شفا میں بھی
یحییٰ کی حیا میں بھی
یوسف کی ادا میں بھی
یونس کے وظیفے میں
نبیوں کے صحیفے میں
قرآں کے خزینے میں
مکّے میں، مدینے میں
زینب کی زباں میں بھی
اکبر کی اذاں میں بھی
حیدر کی ولا میں بھی
زہرہ کی دعا میں بھی
عبّاس کے جذبے میں
شبیر کے سجدے میں
نعرۂ حیدری میں
نورِ محمدی میں