دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
نالہ سر کھینچتا ہے جب میرا
نالہ سر کھینچتا ہے جب میرا
شور اک آسماں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
بیٹھنے کون دے ہے پھر اُس کو
بیٹھنے کون دے ہے پھر اُس کو
جو تِرے آستاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
یوں اٹھے، آہ، اُس گلی سے ہم
یوں اٹھے، آہ، اُس گلی سے ہم
جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے