کب سے تنہائیوں کے آنچل تھامے ہم
راتوں میں خاموشی سے کرتے باتیں ہم
خود سے ہی روٹھے ہیں پھر خود کو ہی مناتے ہیں
سوچو ذرا ہم کتنے تنہا تیرے بن
میری جاناں، تُو نے نہ جانا، میں تو بس تیرا ہوں
تیرا تھا میں، تیرا ہوں میں، بس تیرا ہی رہوں
تیرے سنگ جینا چاہوں، تیرے سنگ ہی مروں
میری جاناں، تُو نے نہ جانا، میں تو بس تیرا ہوں
تیرا ہوں
تیرا ہوں
چل پرندے اڑ جا لے کے، روشنی اب ڈھلتی ہے
شام اندھیری چھاتی ہے اور تنہائی بھی پلتی ہے
کہیں کوئی پرندہ تیری یاد میں تنہا بیٹھا ہے
تنہائی میں روتا ہے اور خود سے ہی یہ کہتا ہے
"میری جاناں، تُو نے نہ جانا، میں تو بس تیرا ہوں
تیرا تھا میں، تیرا ہوں میں، بس تیرا ہی رہوں
تیرے سنگ جینا چاہوں، تیرے سنگ ہی مروں
میری جاناں، تُو نے نہ جانا، میں تو بس تیرا ہوں
تیرا ہوں
تیرا ہوں
تیرا ہوں
میری جاناں، یہ مجبوری، بنا مطلب کی دوری
مجھ کو ستائے ہر دم، جاناں، میں تو تیرا ہوں
تیرے بن یہ میری راتیں، کٹتی نہ یہ برساتیں
لَوٹ کے آ جا اب تُو، جاناں، میں تو تیرا ہوں
میری جاناں، تُو نے نہ جانا، میں تو بس تیرا ہوں
تیرا تھا میں، تیرا ہوں میں، بس تیرا ہی رہوں
تیرے سنگ جینا چاہوں، تیرے سنگ ہی مروں
میری جاناں، تُو نے نہ جانا، میں تو بس تیرا ہوں
تیرا ہوں