تازہ ہوا بہار کی دل کا ملال لے گئی
پائے جنوں سے حلقۂ گردشِ حال لے گئی
جرأتِ شوق کے سوا خلوتیانِ خاص کو
جرأتِ شوق کے سوا خلوتیانِ خاص کو
اک تِرے غم کی آگہی تا بہ سوال لے گئی
تازہ ہوا بہار کی دل کا ملال لے گئی
تیز ہوا کی چاپ سے تیرہ بنوں میں لَو اٹھی
تیز ہوا کی چاپ سے تیرہ بنوں میں لَو اٹھی
روحِ تغیُّرِ جہاں آگ سے فال لے گئی
تازہ ہوا بہار کی دل کا ملال لے گئی
نافۂ آہوئے تتار زخمِ نمود کا شکار
نافۂ آہوئے تتار زخمِ نمود کا شکار
دشت سے زندگی کی رو ایک مثال لے گئی
تازہ ہوا بہار کی دل کا ملال لے گئی