لایا ہے دل پر کتنی خرابی
اے یار، تیرا حسنِ شرابی
لایا ہے دل پر کتنی خرابی
اے یار، تیرا حسنِ شرابی
عشرت کی شب کا وہ دورِ آخر
عشرت کی شب کا وہ دورِ آخر
نورِ سحر کی وہ لا جوابی
اے یار، تیرا حسنِ شرابی
لایا ہے دل پر کتنی خرابی
اے یار، تیرا حسنِ شرابی
پیراہن اُس کا ہے سادہ رنگیں
پیراہن اُس کا ہے سادہ رنگیں
یا عکسِ مَے سے شیشہ گلابی؟
اے یار، تیرا حسنِ شرابی
لایا ہے دل پر کتنی خرابی
اے یار، تیرا حسنِ شرابی